سوال:
جب اسکول میں اساتذہ کی کمی ہو، کلاسوں کی بار بار تبدیلی کرنی پڑے، بچے غیر حاضری اور عدم دلچسپی کا مظاہرہ کریں، والدین تعاون نہ کریں، اور افسران صرف تنقید کریں تو ایسے حالات میں نظم و ضبط اور تدریسی معیار کو کیسے برقرار رکھا جائے؟
جواب:
یہ ایک عام مگر نہایت سنجیدہ مسئلہ ہے، خصوصاً دیہی اسکولوں میں جہاں تعلیمی سہولیات محدود، والدین غیر سنجیدہ، اور بچوں کی توجہ تعلیم سے زیادہ روزگار یا گھریلو ذمہ داریوں پر ہوتی ہے۔ ایسے ماحول میں استاد کے لیے سب سے بڑی آزمائش یہ ہوتی ہے کہ وہ مایوسی کے بجائے تدریس کا حوصلہ قائم رکھے اور چھوٹے، عملی اقدامات کے ذریعے تبدیلی لائے۔
سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ آپ اپنے اثر کے دائرے (circle of influence) کو پہچانیں۔ یعنی جو چیزیں آپ کے بس میں ہیں، ان پر کام کریں، اور جو آپ کے اختیار سے باہر ہیں (جیسے والدین کی عدم دلچسپی یا افسران کا رویہ)، ان پر زیادہ ذہنی دباؤ نہ ڈالیں۔ استاد کے پاس دو سب سے مضبوط طاقتیں ہوتی ہیں: تعلق اور تسلسل۔ اگر آپ بچوں کے ساتھ تعلق قائم کر لیں تو وہ آہستہ آہستہ سنجیدہ ہونے لگتے ہیں۔
کلاس میں بار بار تبدیلی کے باوجود آپ ہر جگہ ایک چھوٹا سا نظم و ضبط کا نظام بنا سکتے ہیں۔ مثلاً کلاس میں داخل ہوتے ہی ایک مقررہ طریقہ اپنائیں — جیسے دعا، کوئی نعرہ، یا سوال۔ اس سے بچے سمجھ جاتے ہیں کہ اب “پڑھائی کا وقت” شروع ہو گیا ہے۔ ہر کلاس میں دو تین بچوں کو چھوٹے “مانیٹر” کے طور پر مقرر کریں جو حاضری، صفائی، یا خاموشی برقرار رکھنے میں مدد کریں۔ یہ بچے آپ کے “چھوٹے ساتھی” بن جائیں گے، اور باقی کلاس بھی ان کی پیروی کرے گی۔
جہاں بچے غیر حاضری کا شکار ہوں، وہاں ذاتی رابطہ سب سے زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔ اگر ممکن ہو تو ہفتے میں ایک دن دو تین بچوں کے والدین کو بلوا کر غیر رسمی گفتگو کریں، تنقید نہیں بلکہ تعاون کی اپیل کریں۔ گاؤں کے والدین کے لیے “تعلیم” کو ان کی روزمرہ زندگی سے جوڑ کر بیان کرنا زیادہ مؤثر ہوتا ہے — جیسے “پڑھا لکھا مکینک بہتر کام کر کے زیادہ کماتا ہے” یا “درزی اگر حساب لکھنا جانتا ہو تو نقصان نہیں ہوتا”۔
بچوں کی دلچسپی بڑھانے کے لیے آپ کا تدریسی انداز تجرباتی (activity-based) ہونا چاہیے، خاص طور پر دیہی اسکولوں میں جہاں کتابوں سے زیادہ “عملی تجربہ” اثر کرتا ہے۔ مثال کے طور پر سائنس میں کسی مقامی چیز کا تجربہ دکھائیں، اردو میں کہانی سنائیں، یا ریاضی میں گنتی کسی کھیل سے کروائیں۔
افسران کے رویے کو دل پر لینے کے بجائے، آپ ان کے سامنے اپنی کوششوں کا دستاویزی ثبوت رکھیں۔ ہر ہفتے چھوٹا سا ریکارڈ تیار کریں کہ کتنے بچے باقاعدہ آئے، کون سی سرگرمیاں ہوئیں، کون سے بچے بہتر ہوئے۔ اس سے آپ کی کارکردگی واضح نظر آئے گی اور تذلیل کی گنجائش کم ہوگی۔
اگر بچے مختلف کلاسوں میں بار بار تبدیل ہوتے ہیں تو اپنا مختصر مگر جامع پلان بنائیں۔ جیسے ہر سبق کے لیے تین مرحلے طے کریں: آغاز میں دلچسپی پیدا کریں (مثلاً سوال یا کہانی سے)، درمیان میں صرف بنیادی نکتہ سمجھائیں، اور آخر میں ایک چھوٹی سرگرمی یا سوال سے سبق مکمل کریں۔ اس طرح کلاس مختصر مگر مؤثر رہے گی۔
آخر میں یاد رکھیں کہ حقیقی تبدیلی فوری نہیں آتی۔ آپ کے صبر، تسلسل اور نرم مگر پُراعتماد رویے سے ہی بچے اور والدین دونوں پر اثر پڑے گا۔ کچھ بچے ضرور ایسے ہوں گے جو آپ کے انداز سے متاثر ہو کر پڑھائی میں دلچسپی لیں گے۔ یہی وہ “بیج” ہیں جو آہستہ آہستہ تعلیمی ماحول کو بہتر بناتے ہیں۔
آپ کا کام ایک استاد سے بڑھ کر ایک معاشرتی تبدیلی کے نمائندے کا ہے، اور ایسے لوگ ہمیشہ وقت کے ساتھ اپنی محنت کا پھل ضرور دیکھتے ہیں۔
(منصوراخترغوری)
